پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی مہم ’ مشن نور‘ کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ عوامی اور سوشل میڈیا حلقوں میں اس مہم نے شدید بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔
’مشن نور‘ کے تحت آج رات 9 بجے ملک بھر میں شہریوں کو اپنی چھتوں پر جا کر آذان دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس مہم کو’امید، اتحاد اور مزاحمت‘ کا پیغام دینے والی علامتی، غیر سیاسی اور پرامن تحریک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، مہم کے نام اور تاریخ کے انتخاب پر مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید اعتراضات سامنے آ گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی محمد خان، سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور دیگر اہم رہنماؤں نے اس مہم سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے اسے متنازع اور مذہبی طور پر حساس قرار دیا ہے۔
علی محمد خان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’حرمتِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے! ’نور‘ اللّٰہ تعالیٰ کے 99 اسمائے مبارکہ میں سے ایک بابرکت نام ہے، لیکن ’مشن نور‘ دراصل قادیانیوں کی ایک اصطلاح ہے، جس کا تعلق مرزا قادیانی کے ساتھی حکیم نورالدین سے جوڑا جاتا ہے۔‘
حرمتِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے !
” نُور “ اللّٰہ تعالی کے 99 ناموں میں سے ایک مبارک نام ہے جو انتہائی بابرکت ہے لیکن ”مشن نور “ جو @PTIofficial کا کوئی باضابطہ پروگرام تو نہیں البتہ سوشل میڈیا کے کچھ حضرات کی کاوش تھی اور بیشک نیک نیتی سے ہی ہوگی تاکہ اس ظالم نظام اور…
انہوں نے مزید کہا کہ ’20 ستمبر 1948 کو قادیانیوں کے عالمی مرکز ربوہ کا قیام ہوا تھا، اس لیے اسی دن کسی بھی سیاسی یا مذہبی تحریک کو’مشن نور‘ جیسے عنوان کے تحت چلانا نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ ایمان کے منافی بھی ہو سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد صرف اذان دینا ہے، تو وہ کسی اور دن، کسی اور مناسب نام سے دی جا سکتی ہے، لیکن ایسے کسی عمل کی حمایت نہیں کی جا سکتی جس سے تحریک انصاف یا اس کی قیادت پر قادیانیوں سے مشابہت کا الزام لگے۔
یاد رہے کہ ’مشن نور‘ کی کوئی باضابطہ تنظیمی حیثیت نہیں، بلکہ یہ مہم سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں اور کارکنوں کی ایک خود ساختہ کاوش ہے، جس کا مقصد موجودہ سیاسی صورتحال اور انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن علامتی احتجاج کرنا بتایا گیا ہے۔
مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف آذان کے ذریعے ایک پرامن آواز اٹھانے کا عمل ہے، جس میں نہ کوئی مارچ ہوگا، نہ احتجاج، بلکہ یہ ایک روحانی اظہار ہے جو امید اور اتحاد کا پیغام دے گا۔‘
تاہم، مذہبی حلقوں اور بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’نور‘ جیسا مقدس نام اور 20 ستمبر جیسی حساس تاریخ کسی بھی متنازعہ پس منظر کے بغیر استعمال نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں اور قادیانی عقائد سے غیر ارادی مماثلت پیدا ہو سکتی ہے۔
کچھ افراد نے تجویز دی ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی مہم چلانی ہے تو اس کے لیے ایسا نام اور تاریخ اختیار کی جائے جو مذہبی یا تاریخی حوالے سے متنازع نہ ہو، تاکہ جماعت، کارکنان اور عام عوام کسی ممکنہ فتنے یا فکری الجھن سے محفوظ رہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں اس معاملے پر اختلاف رائے نمایاں ہو چکا ہے، اور یہ مہم اب سیاسی جماعت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔