کالعدم تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ کے اہم دہشتگرد اور جعفر ایکسپریس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید کی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں پراسرار ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ گئی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 17 ستمبر 2025 کو پیش آیا، ذرائع نے بتایا ہے کہ رحمان عرف استاد مرید، المعروف جعفر، نہ صرف فتنہ الہندوستان (مجید بریگیڈ) کا سینئر ترین ٹرینر اور آپریشنل کمانڈر تھا بلکہ پاکستان میں متعدد مہلک حملوں کا منصوبہ ساز بھی رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گل رحمان پاکستانی سیکیورٹی فورسز، چینی شہریوں، معصوم عوام اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں براہِ راست ملوث تھا۔
اہم دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث، فتنہ الہندوستان کی کارروائیوں میں وہ حملے شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی قومی سلامتی، معاشی ترقی اور بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں جعفر ایکسپریس پر حملہ، کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ،گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر دہشتگردی کا حملہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خضدار میں سکول بس پر بم دھماکہ، کراچی میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ پر خود کش حملہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دہشتگردی بھی شامل ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مذمت
امریکی حکومت پہلے ہی ’فتنہ الہندوستان‘ کے عسکری ونگ ’مجید بریگیڈ‘ کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ پاکستان اور چین کی جانب سے اس گروہ کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا چکا ہے۔
افغان سرزمین کا استعمال
گل رحمان کی افغانستان میں ہلاکت ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے بین الاقوامی برادری کو دہشتگرد گروہوں کے سرحد پار محفوظ ٹھکانوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گل رحمان جیسے خطرناک دہشتگرد کی پراسرار ہلاکت نہ صرف دہشتگرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ پاکستان اور چین کے اس مؤقف کو بھی تقویت دیتا ہے کہ فتنہ الہندوستان جیسے گروہ علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔