تانبے کو ہزاروں سال سے دنیا کی مختلف تہذیبوں میں صرف زیور کے طور پر نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
قدیم معاشروں میں لوگ اسے کلائیوں، ٹخنوں اور گردن میں پہنتے تھے۔ اُس دور کے حکیم اور معالج جسم کا باریک مشاہدہ کرتے تھے اور وقت کے ساتھ یہ دیکھتے تھے کہ مختلف چیزوں کا انسانی جسم پر کیا اثر ہوتا ہے۔ اسی مشاہدے کی بنیاد پر کئی روایتی طریقے وجود میں آئے۔
اگرچہ ہر تہذیب میں اس کی وجہ مختلف رہی، کہیں روحانی تحفظ سمجھا گیا، کہیں بیماریوں سے بچاؤ، لیکن ایک بات مشترک تھی کہ اس کا استعمال بے مقصد نہیں ہوتا تھا۔
جدید سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تانبا قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے، یعنی یہ کچھ بیکٹیریا اور وائرس کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی جسم میں برقی سگنلز، جیسے دل کی دھڑکن اور اعصابی نظام، ایک پیچیدہ بائیو الیکٹرک نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قدیم تہذیبیں انسانی جسم کو بہت گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتی تھیں اگرچہ ان کے پاس آج کی طرح سائنسی زبان موجود نہیں تھی۔ اسی لیے کئی پرانے طریقے آج بھی تحقیق کا حصہ ہیں، کچھ مکمل طور پر ثابت ہوتے ہیں اور کچھ مختلف انداز میں سمجھ میں آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ تانبا پہننے کے تجربات شیئر کرتے ہیں اور اسے مختلف فوائد سے جوڑتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس حوالے سے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔