فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) نے جائیدادوں کی کم مالیت ظاہر کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن سے چند روز قبل آئرس فارم میں تبدیلی کردی، اب اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔
ایف بی آر کے مطابق پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو میں سالانہ اضافے کی تفصیلات دینا ہوں گی، انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔
دوسری جانب مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد ریٹرن جمع کراچکے اور اب فارم میں ترمیم کا کہا جا رہا ہے، لوگ پہلے ہی بلند ٹیکس ریٹ اور ہراساں کیے جانے سے بھاگتے ہیں، وزیر خزانہ ڈیڑھ سال سے ریٹرن آسان بنانے کی بات کررہے تھے، یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
مزمل اسلم کاکہنا ہے کہ ٹیکس کنسلٹنٹس بھی پریشان ہیں،ہراسانی بڑھنے کا خدشہ ہے، ریٹرن فارم میں تبدیلی کرنے کے بعد کم از کم 90 دن دینا لازمی ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ سامنے آیا تھا کہ اب ایک کروڑ روپے تک کی جائیداد خریدنے پر خریدار کو ایک کروڑ روپے ظاہر کرنے ہوں گے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر نے کہا کہ متوسط طبقے کو ایک کروڑ روپے تک کی جائیداد خریداری سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آیا اس کے پاس اتنے پیسے ہیں بھی یا نہیں۔