امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے حل اور جنگ بندی میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے جب کہ بھارت کی جانب سے دیے گئے مختلف بیانات زیادہ تر ان کی اندرونی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر عہدیدار برائے جنوبی ایشیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت سیزفائر کے عمل میں واشنگٹن نے کلیدی کردار ادا کیا اور یہ حقیقت ہے کہ جنگ بندی میں امریکا کی مدد شامل تھی، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے متضاد بیانات کی بڑی وجہ ان کے گھریلو سیاسی معاملات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ایک دیرینہ تنازع ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست بات چیت سے ہی حل ہوسکتا ہے،اگر ثالثی کی باضابطہ درخواست کی گئی تو امریکا اس پر آمادہ ہوگا، عہدیدار نے بگرام ایئر بیس کی حوالگی پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا بھی حوالہ دیا۔
اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ 13 امریکی فوجیوں کے قاتل کی پاکستان سے حوالگی دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت تھی اور اس اقدام پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ امریکا بیک وقت بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور مفادات کو آگے بڑھانے پر کام کر رہا ہے، اور دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اپنی نوعیت میں مختلف ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کے امکانات دیکھ رہا ہے اور پاکستان میں لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تیاری کی جا رہی ہے۔