انتہاپسند مودی حکومت کے تحت بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دنیا بھر میں سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بین الاقوامی جریدے ’بلوم برگ‘ کی رپورٹ کے مطابق، امریکا کی فیڈرل کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات اور شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ دنیا کے مختلف حصوں میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منصوبہ بندی میں بھارتی حکومت سے تعلق رکھنے والے اہلکار ملوث تھے۔ بھارتی شہری نکھل گپتا پر گزشتہ سال پنوں کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا، جسے جون 2023 میں جمہوریہ چیک سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔
’بلوم برگ‘کے مطابق، نکھل گپتا کو یہ احکامات ’را‘ کے افسر وکاش یادیو نے دیے۔ امریکی استغاثہ نے انکشاف کیا ہے کہ پنوں کے قتل کے پیچھے ایک منظم اور وسیع سازش موجود ہے، جس کا دائرہ کار امریکا سے لے کر نیپال اور پاکستان تک پھیل چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اسی سازش کے تانے بانے کینیڈا میں قتل کیے گئے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل سے بھی جڑے ہیں۔ نجار اور پنوں دونوں خالصتان تحریک کے سرگرم حامی اور مودی حکومت کے سخت ناقدین تھے۔
خبررساں ویب سائٹ ’دی وائر‘ نے مقدمے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا کہ 22 جون 2023 کو وکاش یادیو نے واٹس ایپ پیغام میں نکھل گپتا کو ’اسالٹ رائفلیں اور پستول‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ایک اور پیغام میں ’را‘ کے سابق افسر نے ہوائی جہاز کے ذریعے ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے کلئرنس کا بندوبست کرنے کا یقین دلایا۔
نکھل گپتا اس وقت امریکا میں ’سکھ فار جسٹس‘ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ استغاثہ نے گپتا اور یادیو کی گفتگو اور رابطوں کی تفصیل سے وسیع تر نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے، جو مختلف ممالک میں قتل و غارت کی منصوبہ بندی میں مصروف رہا۔
ان انکشافات نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مودی حکومت نہ صرف بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کے لیے بدنام ہے بلکہ عالمی سطح پر سکھوں کو نشانہ بنانے کیلئے ریاستی دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کر رہی ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست کے زیرِ سایہ کام کرنے والے یہ مجرمانہ نیٹ ورکس عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور بین الاقوامی برادری کو اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔