کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اسرائیل کے مظالم کے خلاف دنیا بھر کی اقوام کو ایک بڑی عالمی فورس تشکیل دینے کی اپیل کی ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فورس امریکی فوج سے بھی بڑی ہونی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور انسانی حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔
صدر پیٹرو نے یہ جرات مندانہ خطاب نیویارک میں فلسطینی حمایت میں ہونے والے ایک بڑے عوامی مظاہرے کے دوران کیا، جہاں انہوں نے اسرائیل کی فلسطین میں جاری کارروائیوں کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور عالمی طاقتوں کی طرف سے مظلوموں پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہ رہیں۔
امریکی فوجی ضمیر جگائیں، گستاوو پیٹرو کا پیغام
خطاب کے دوران صدر پیٹرو نے امریکی فوجیوں سے بھی براہ راست اپیل کی کہ وہ ’انسانیت کے لیے اپنے ہتھیار اٹھائیں‘ اور ’اندھے احکامات کی پیروی نہ کریں‘۔ انہوں نے خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے احکامات پر عمل نہ کریں، بلکہ اخلاقیات اور انسان دوستی کی بنیاد پر فیصلہ کریں‘۔
امریکا کا شدید ردعمل، ویزا منسوخ
صدر پیٹرو کے ان بیانات کو امریکا نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اشتعال انگیز قرار دیا۔ امریکی حکام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے صدر پیٹرو کا ویزا منسوخ کر دیا، جسے بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صدر پیٹرو کا دوٹوک جواب
وطن واپسی پر کولمبیا کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اقدام کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف کولمبیا کا نہیں بلکہ یورپ کا بھی شہری ہوں، اور یورپی شہریوں کو امریکا جانے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف ایک سفری اجازت نامہ درکار ہوتا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میری آواز دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ میں انسانیت کے حق میں بولتا رہوں گا، چاہے کوئی ملک اسے پسند کرے یا نہ کرے‘۔
پیٹرو پہلے بھی امریکا پر تنقید کر چکے ہیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر پیٹرو نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے امریکی خارجہ پالیسی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اس کے کردار، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر شدید تنقید کی تھی۔
بین الاقوامی ردعمل
صدر پیٹرو کے حالیہ بیانات اور امریکی ردعمل پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ممالک نے صدر پیٹرو کی حمایت کی ہے، جبکہ کچھ نے اسے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کئی عالمی اداروں نے اسرائیل اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی طاقتوں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر پیٹرو کی جانب سے عالمی فورس کی تجویز ایک نیا سیاسی بیانیہ پیش کرتی ہے، جو اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ امریکا کا سخت ردعمل ایک مرتبہ پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر اختلاف رائے رکھنے والوں کو عالمی سطح پر کس طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف کولمبیا، امریکا تعلقات کے لیے ایک امتحان بن گیا ہے بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی انسانی حقوق کے لیے ایک مشترکہ موقف اختیار کر سکتی ہے؟