روٹی اور نان کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن سے متعلق درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

روٹی اور نان کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن سے متعلق درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ میں روٹی اور نان کی قیمتیں مقرر کرنے والے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے سماعت کے دوران ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی سے روک دیا ہے اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ منگل، 30 ستمبر کو نانبائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کرے تاکہ قیمتوں اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی، نوٹیفکیشن جاری

پیر کو نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے روٹی اور نان کی تیاری مہنگی ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں قیمتوں کا نوٹیفکیشن غیر مناسب اور ناقابلِ عمل ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ نانبائیوں کو اپنی لاگت پورا کرنے کے لیے قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو نقصان سے بچا سکیں۔

دوسری جانب، ڈپٹی کمشنر نے عدالت میں اس خدشے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نانبائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے روکا جاتا ہے جب تک کہ معاملہ حل نہ ہو جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جائے اور انتظامیہ اور نانبائی ایسوسی ایشن کے مابین مناسب رابطہ قائم ہو۔

مزید پڑھیں:مہنگائی کی نئی لہر، آٹے اور روٹی کی قیمت میں مسلسل اضافہ

عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم اکتوبر کو مقرر کرتے ہوئے دونوں فریقین سے گزارش کی ہے کہ وہ اس ملاقات میں مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالت عام شہریوں اور خاص طور پر روزمرہ کی ضروریات فراہم کرنے والے طبقے کی مشکلات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

عوام میں اس سماعت کے حوالے سے امید پائی جاتی ہے کہ قیمتوں کے تعین میں توازن پیدا کیا جائے گا تاکہ نہ تو صارفین کو نقصان پہنچے اور نہ ہی نانبائیوں کو نقصان اٹھانا پڑے۔ مزید سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *