خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے پر سیاسی طنز اور شاعرانہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ انہیں میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار پر نکالا گیا یا کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ تو وقت بتائے گا’۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اب تک وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ انہیں موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ‘استعفیٰ دیکھ کر پتہ چلے گا کہ مستعفی ہونے کی اصل وجہ کیا ہے’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر استعفے میں کوئی قانونی یا آئینی پیچیدگی پائی گئی تو اسے واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مائنز اینڈ منرلز بل منظور کریں یا اپنی نوکری بچائیں، گورنر فیصل کریم کنڈی کی علی امین گنڈاپور پر شدید تنقید
فیصل کریم کنڈی نے علی امین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ چاہتے تھے کہ پورے صوبے کے مالک بن جائیں، جو لوگوں کو نکالنے کے بڑے بڑے دعوے کرتا تھا، آج وہ خود صوبے سے باہر نکل گیا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے’۔
خیبرپختونخوا کی سیاست میں جاری ہلچل کے تناظر میں گورنر فیصل کریم کنڈی اور صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعباد اللہ کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی ہے، جس میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال اور مشاورت کی گئی۔
ملاقات کے دوران گورنر خیبرپختونخوا نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ’نالائق اور کرپٹ‘ تھے بلکہ انہوں نے میر جعفر اور میر صادق جیسا کردار ادا کیا۔ فیصل کریم کنڈی کے بقول،’کبھی علی امین کہتے تھے کہ ریاست کے ساتھ ہیں، اور کبھی دہشتگردوں کے بیانیے کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے، ایسی غیر واضح پالیسی صوبے کے لیے تباہ کن تھی‘۔
گورنر نے نئے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اہلیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ بھی زیادہ قابل نہیں، اور صوبہ ان کی قیادت کا متحمل نہیں ہو سکتا‘۔
دوسری جانب، خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی کے باعث اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مشاورت کی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گورنر کے بیانات اور اپوزیشن کی بڑھتی سرگرمیاں صوبے میں ایک نئے سیاسی بحران کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ اگر اختلافات میں شدت آئی تو یہ مرکز اور صوبے کے درمیان تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی اپنی صفوں کو سنبھال کر حکومت بچا پاتی ہے یا اپوزیشن نئی حکمت عملی کے ساتھ کوئی بڑا سیاسی قدم اٹھاتی ہے۔
گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا استعفیٰ دے دیا تھا،۔ اپنے بیان میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ‘یہ منصب عمران خان کی امانت تھا جسے اب واپس کر دیا ہے’۔ انہوں نے اپنے جانشین سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔
کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں-
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں-— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 8, 2025

