خیبرپختونخوا میں جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے : ترجمان پاک فوج

خیبرپختونخوا میں جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے : ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے  اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جس کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے آغاز میں خیبرپختونخوا کے غیور عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب نے خیبرپختونخوا کے غیور عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے عزم کی تجدید کرتےہیں۔

انہوں نے صوبے میں انسداد دہشت گردی آپریشن کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوامیں2024کے بعد خفیہ اطلاعات پر 14ہزار 535 آپریشنز کیے، یومیہ بنیاد پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تعداد 40 بنتی ہے۔

 ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ، بھارت افغانستان کو دہشتگردی کے لیے استعمال کررہا ہے ، سوچے سمجھے پلان کے تحت دہشت گردوں کو جگہ دی گئی اور یہاں پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلایا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و ملٹری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا،

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو اس سیاست میں الجھایا گیا ، دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر جنگیں کبھی نہ ہوتیں، اگر بات چیت سے ہی معاملات حل ہوتے تو غزوہ بدر میں سرور کونین ﷺ کبھی جنگ نہ کرتے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا فیصلہ سیاستدانوں اور قبائلی عمائدین نے ملکر کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا نکتہ تھا کہ دہشت گری کے خلاف میڈیا اور سیاستدان مضبوط بیانیہ بناتے ہوئے ایک آواز ا’ٹھائیں گے، لیکن اس کے باوجود یہ آوازیں آئیں کہ بات چیت کر لی جائے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کا تیسرا نکتہ غیرقانونی سپیکٹرم کو ختم کرنا ہے جس میں بھتہ خوری اور نارکوٹیکس کے نیٹ ورک کو ختم کرنا شامل ہے لیکن سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور اس کے سہولت کاروں کو سپیس دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں : اورکزئی حملے میں ملوث 30 خارجی انجام کو پہنچا دیے گئے، سکیورٹی ذرائع

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم نے کئی دہائیوں سے افغان بھائیوں کی میزبانی کی،  ریاست نے افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ کیا تو افغان مہاجرین کے حوالے سے گمراہ کن باتیں کی جا رہی ہیں۔ آج یہ بیانیہ کہاں سے آ گیا کہ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجنا؟‘

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو عوام نے کیوں نہیں کہا کہ اگلے دن بات چیت کرلیں؟ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو الجھایا گیا، دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کر مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2024 کے دوران آپریشنز میں 700سے زائد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، خیبرپختونخوا میں 2024میں ان آپریشنز کے دوران 577قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا، شہدا میں پاک فوج کے 272بہادرافسر وجوان، پولیس کے 140اور165معصوم پاکستانی شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال اب تک خیبرپختونخوا میں 10ہزار 115انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جاچکے ہیں، یہ یومیہ 40انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بنتے ہیں، ان آپریشنز کے دوران 917دہشتگردوں کوجہنم واصل کیا جاچکا ہے، سال 2025خیبرپختونخوا میں ان آپریشنز کے دوران 516قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا، شہدا میں پاک فوج کے311بہادرافسران وجوانان،پولیس کے73اور132معصوم پاکستانی شہری شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اس کے پاس تین چوائسز ہیں جن میں سہولت کاری کرنے والا خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر اس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے اور اگر یہ دونوں کام نہیں کرنے تو خارجیوں کے سہولت کار ہوتے ہوئے ریاست کی طرف سے ایکشن کے لیے تیار رہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ دہشت گردی میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حملوں میں گاڑیوں کی ٹریکنگ نہیں ملتی ، اسمگلنگ ہوگی تو دہشت گرد بھی ساتھ آئیں گے، بیشتر دہشت گرد واقعات میں افغان باشندے ملوث ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے افغانستان میں حملہ کرنے اور مفتی نورولی محسود کے مارے جانے کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان سے سوال کیا۔

اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کو بیس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں، پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہیے وہ کیے جائیں گے اور کیےجاتے رہیں گے، کون کہتا ہےخوارجیوں اور دہشت گردوں سے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *