ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس ٹریننگ سینٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 7 افراد شہید ہو گئے، جن میں 6 پولیس جوان اورایک عام شہری شامل ہیں۔ حملے کے دوران دہشتگردوں نے سینٹر کے احاطے میں واقع مسجد کو بھی نشانہ بنایا، جہاں امام مسجد مولانا عصمت مروت بھی شہید ہو گئے۔
یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پولیس جوان معمول کے مطابق اپنی تربیتی سرگرمیوں میں مصروف تھے، جبکہ مسجد میں نماز اور عبادت کا سلسلہ جاری تھا۔ دہشتگردوں نے نہ صرف ریاستی ادارے کے اس اہم مقام پر حملہ کیا بلکہ اللہ کے گھر مسجد میں موجود افراد کو بھی برائے راست نشانہ بنایا۔
امام مسجد کو شہید کرنا، دین دشمنی کی بدترین مثال
مولانا عصمت مروت، جو نہایت نرم گو اور متقی عالم دین سمجھے جاتے تھے، مسجد کے امام کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ حملے کے دوران دہشتگردوں نے انہیں براہ راست نشانہ بنایا، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا ہدف صرف ریاستی ادارے نہیں، بلکہ اسلام کا چہرہ اور دین کی روح بھی ہے۔
اللہ کے گھر میں، عبادت کے مقام پراُس کے امام کو شہید کرنا اسلام دشمنی کی وہ بدترین شکل ہے جو خوارج کے نظریے کی اصل عکاسی کرتی ہے۔
خوارج اسلام کے دشمن
یہ وہی گروہ ہے جس نے اس سے قبل علی مسجد (پشاور)، کوچہ رسالدار، اور پولیس لائنز مسجد جیسے مقامات پر نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے حملے صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد پر براہِ راست حملہ ہیں۔ یہ لوگ دین کے لبادے میں چھپے وہ درندے ہیں جو مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے ہیں اور امن و محبت کے پیغام کو مٹانا چاہتے ہیں۔
ریاست اور عوام کا مؤقف
ملک بھر میں اس حملے کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مذہبی و سماجی حلقوں نے اس حملے کو ’اسلام اور انسانیت دونوں پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔ عوامی سطح پر شہدا کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
یہ جنگ صرف ریاست کی نہیں، دین اور امن کی بھی ہے
خوارج کا یہ نیا حملہ ایک مرتبہ پھر یاد دلاتا ہے کہ یہ فتنے صرف بندوق اور بارود سے نہیں، نظریاتی طور پر بھی ختم کیے جانے چاہئیں۔ جب تک ہم بطور امت ان کے خلاف فکری و عملی محاذ پر متحد نہیں ہوتے، یہ عناصر دین کے چہرے کو داغدار کرتے رہیں گے۔