وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکہ کے حالیہ دورے کے دوران متعدد اہم ملاقاتیں کرتے ہوئے امریکی حکام اور کاروباری نمائندوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
امریکی حکام سے ملاقاتیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی معاون وزیر خزانہ رابرٹ کیپ روتھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت، ورچوئل اثاثوں سے متعلق قانون سازی، اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو تیل، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) جیسے کلیدی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیرف معاہدے پر کامیاب مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دو طرفہ تجارت میں اضافے کا باعث بنے گا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی وسعت دے گا۔
دولت مشترکہ اجلاس سے خطاب
محمد اورنگزیب نے دولت مشترکہ وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی فنانسنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ’لاس اینڈ ڈیمج فنڈ‘ کو فعال کرنے پر زور دیا تاکہ ماحولیاتی آفات سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو فوری اور مؤثر مدد فراہم کی جا سکے۔
اسلامی ترقیاتی بینک سے تعاون
اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سلیمان الجاسر سے ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے موٹروے M-6 کے دو حصوں کی فنانسنگ کی منظوری پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان پولیو کے خاتمے اور پاکستان میں تیل کی فراہمی کے منصوبوں میں مزید تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔
نجی شعبے سے روابط
وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے ریجنل نائب صدر اور سٹی بینک کے نمائندوں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی اور مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کو فروغ دینا تھا۔
انہوں نے یو ایس-پاکستان بزنس کونسل کی ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے امریکی کاروباری برادری کو پاکستان کے معاشی امکانات سے آگاہ کیا اور اعتماد دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ دورہ پاکستان کی معاشی سفارتکاری کے سلسلے میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر مثبت اقتصادی شبیہ بھی مضبوط ہو گی۔