اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک اہم کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کو خطے میں ریاستی دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی نمائندے آصف خان نے سخت الفاظ میں بھارت کی ’منافقت‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔
بھارت دہشتگرد گروہوں کا سہولت کار
اقوام متحدہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف خان نے واضح کیا کہ بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ جیسے خطرناک گروہوں کو مالی، تکنیکی اور انٹیلیجنس معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کا مقصد پاکستان میں دہشتگردی پھیلانا، عوام میں خوف پیدا کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی یہ کاروائیاں نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
بھارتی جارحیت پر پاکستان کا دفاعی ردعمل
پاکستانی نمائندے نے اقوام متحدہ کو آگاہ کیا کہ رواں برس مئی میں بھارت نے اشتعال انگیز جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس پر پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہم کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں‘۔
بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتے رہیں گے
آصف خان نے بھارت کے دہرے معیار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ایک جانب بھارت خود کو دہشتگردی کا شکار ظاہر کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ خود دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی ان ریاستی پالیسیوں کا نوٹس لے جو جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
پاکستان مسلسل عالمی فورمز پر یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بھارت کو اپنی جارحانہ پالیسیاں ترک کرنی ہوں گی اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی بند کرنا ہو گی۔ پاکستانی سفارتکاروں کے مطابق، بھارت کی جانب سے اقلیتوں پر مظالم، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اور ہمسایہ ممالک کے خلاف پراکسی وار جیسے اقدامات عالمی امن کے خلاف ہیں۔
پاکستان کی طرف سے یہ سخت مؤقف ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور بھارت کی جانب سے بار بار پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اقوام متحدہ میں پاکستان کی کھلی سفارتی زبان خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتی ہے، اور عالمی برادری کی توجہ حقیقت کی طرف مبذول کروانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔