صدر مملکت آصف علی زرداری اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایوانِ صدر میں اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت، رابطہ کاری، سرحدی تعاون اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں مستقل امن اور استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے حالیہ مشکل حالات میں پاکستان کی جانب سے تعاون، حمایت اور خیرسگالی کے جذبات پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ صدر زرداری نے مسلم اُمہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط اور متوازن تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔