حکومت مخالف رپورٹنگ اور کرپشن بے نقاب کرنے پر صوبائی وزیر خیبر پختون خواہ نے معتبر صحافی عقیل یوسفزئی کو قانونی نوٹس بھیج دیا ۔
نوٹس میں مبینہ طور پر ہتکِ عزت اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ معتبر صحافی عقیل یوسفزئی نے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے صوبائی وزیر کی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر کی جانب سے معروف صحافی عقیل یوسفزئی کو قانونی نوٹس بھیجے جانے کے بعد صحافتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی امجد خان پرپہلے ہی کرپیشن سمیت ایسے الزامات ہیں کے وہ اپنے اوپر الزامات کی تردید تک کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ انکو معلوم ہے کہ انکے کارنامے تمام دنیا کے سامنے عیاں ہیں ۔
موصوف نوشہرہ میگا سٹی سکینڈل میں 3 ارب روپے کی کرپشن اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں زیر تحقیقات ہیں- اس کے علاوہ امجد علی سرکاری پلاٹوں کی غیر متعلقہ افراد کو الاٹمنٹ میں اور اپنے بیشماررشتہ داروں کو خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں غیر قانونی طور پر پر کشش عہدوں پر فائز کر چکے ہیں
قانونی نوٹس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی سیاست اور بعض ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مختلف نوعیت کے الزامات اور جوابی بیانات زیر بحث ہیں۔ قانونی کارروائیوں کے ذریعے صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے