وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کر دی جائے تو پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس صورت میں حکومت کو آمدن کا متبادل ذریعہ تلاش کرنا ہوگا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں چیئرمین سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت گفتگو کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت کے اخراجات یا تو لیوی کے ذریعے پورے ہوتے ہیں یا پھر اس کا بوجھ مہنگائی کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والے بحران کے دوران حکومت نے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں کسی ایک پمپ پر بھی ایندھن ختم ہو جاتا تو صورتحال سنگین ہو سکتی تھی، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں ایندھن بحران کے دوران فوج کو تعینات کرنا پڑا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہیں،اجلاس میں ارکان کمیٹی نے ایل پی جی کی قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور سوال کیا کہ اوگرا اپنی مقرر کردہ قیمتوں پر عملدرآمد کیوں نہیں کرا پا رہا۔
اس پر وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمتیں عالمی سطح پر پروپین اور بیوٹین کے نرخوں سے منسلک ہیں، پاکستان کی صرف 30 سے 40 فیصد ایل پی جی ضرورت مقامی پیداوار سے پوری ہوتی ہے، جبکہ باقی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمت درآمدی لاگت سے جڑی ہوئی ہے، ایل پی جی کی نیلامی عدالتی حکم امتناع کے باعث رکی ہوئی ہے، تاہم اس معاملے پر اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔
عدالت نے کیس دوبارہ اوگرا کو جائزے کے لیے بھیج دیا ہے جبکہ ایل پی جی قوانین پر عملدرآمد اوگرا کی ذمہ داری ہے،چیئرمین کمیٹی سید مصطفیٰ محمود نے کہا کہ اوگرا حکام کو طلب کرکے ایل پی جی قیمتوں اور عملدرآمد سے متعلق مکمل بریفنگ لی جائے گی۔
اجلاس میں وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت ملک کو یورو فائیو معیار کے ایندھن کی طرف لے جا رہی ہے، ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی وفاقی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے اور امید ہے کہ آئندہ اجلاس تک اس کی منظوری ہو جائے گی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ پالیسی کی منظوری کے بعد ریفائنری اپ گریڈیشن کا عمل شروع ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریفائنریوں کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا، جبکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ ختم کرنا وزیراعظم شہباز شریف کا فیصلہ ہے۔