پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اہم مذاکرات ہفتہ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہیں، جہاں پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشتگردی کے فوری خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات پر بات چیت کرنا ہے۔
’کسی کشیدگی کا خواہاں نہیں، پرامن حل چاہتے ہیں‘،پاکستان کا مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا خواہاں نہیں اور ہمیشہ سے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال خطے کے لیے سفارتی اور سیاسی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان چاہتا ہے کہ افغان طالبان نہ صرف اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کریں بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو بھی سنجیدگی سے لیں اور ان کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
افغان سرزمین سے حملے، پاکستان کا واضح مؤقف
پاکستانی وفد ان مذاکرات میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگرد حملوں کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروپوں کے خلاف ’قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات‘ کریں تاکہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کا سلسلہ بند ہو سکے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروپوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ افغانستان سے منظم کیے جا رہے ہیں۔
قطر کا کردار ثالثی کی کوششیں قابلِ ستائش
ترجمان دفتر خارجہ نے قطر کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔ قطر نہ صرف افغان طالبان کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
خطے کے لیے ایک نازک موڑ
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاک-افغان تعلقات ایک نازک موڑ پر ہیں۔ پاکستان میں عوامی اور سیاسی سطح پر افغان طالبان کی جانب سے دہشتگردوں کو پناہ دینے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ افغان طالبان بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
امید اور احتیاط کے درمیان توازن
یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے باہمی تحفظات کو براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ اگر افغان طالبان واقعی علاقائی امن کے دعوے کو سنجیدہ لیتے ہیں تو انہیں اپنی عملی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستانی وفد ان مذاکرات میں قومی سلامتی، سرحدی تحفظ اور افغان سرزمین کے دہشتگردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے جیسے حساس معاملات پر دو ٹوک مؤقف اپنائے گا۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔