سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارج دہشتگردوں کے ایک بزدلانہ خودکش حملے کو ناکام بناتے ہوئے 4 حملہ آوروں کوہلاک کر دیا۔ تاہم اس افسوسناک واقعے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 خواتین اور 2 بچے شہید ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کا تعلق کالعدم گل بہادر گروپ سے تھا، جس نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
دہشت گردوں کا معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا ناپاک حربہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے ایک بار پھر اپنی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا۔ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں واقع ایک چیک پوسٹ (جسے مقامی طور پر ’کھادی پوسٹ‘ کہا جاتا ہے) کے قریب خودکش حملے کی کوشش کی گئی، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔ تاہم، حملے کے دوران ایک گاڑی میں آگ لگنے سے 3 خواتین اور 2 بچے جھلس کر شہید ہو گئے۔
گل بہادر گروپ کی دہشتگردی جاری، افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم گل بہادر گروپ نے قبول کی ہے، جو بھارتی حمایت یافتہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ہے۔ دہشتگرد گروپ کے سرغنہ ‘گل بہادر’ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ افغان طالبان کی سرپرستی میں افغانستان میں چھپا ہوا ہے اور وہاں سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے۔
افغان طالبان کی خاموش حمایت پر سوالیہ نشان
ذرائع کے مطابق افغان طالبان قیادت کی جانب سے گل بہادر گروپ سمیت دیگر خارجی عناصر کو سوشل میڈیا پر اپنی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات شیئر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کی بھی کوششیں جاری ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کا دو ٹوک مؤقف
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور خوارج کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ فورسز کا کہنا ہے کہ خوارج دہشتگرد سیکیورٹی فورسز سے مسلسل شکست کھانے کے بعد اب معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو ان کی کمزوری اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔
ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور مسلسل کامیابیوں کے بعد ایک بار پھر عوام اور اداروں میں اتحاد اور عزم کی فضا قائم ہے۔ عوامی حلقوں نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
حکام کے مطابق ایسے بزدلانہ حملے قوم کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتے اور پاکستان ان دشمن عناصر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔