پیپلزپارٹی حکومتی اتحاد میںرہے گی یا نہیں؟سی ای سی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پیپلزپارٹی حکومتی اتحاد میںرہے گی یا نہیں؟سی ای سی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، اجلاس میں حکومتی اتحاد کی موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی بحث کی گئی کئی ارکان نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ای سی کے اراکین نے وفاقی اور پنجاب حکومت کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی اجلاس میں بالخصوص خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین نے جذباتی انداز میں اظہارِ خیال کیا ۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ارکان کی گفتگو سنتے ہوئے مسکراتے رہے ذرائع کے مطابق ارکان نے کہا کہ اگر قیادت اجازت دے تو پیپلز پارٹی چند دنوں میں وفاق اور پنجاب میں حکومت کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) بار بار سیاسی غلطیاں دہرا رہی ہے اور سبق نہیں سیکھ رہی اجلاس میں ایک رکن نے پیپلز پارٹی کی عزتِ نفس اور نظریاتی وقار پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ دیگر ارکان نے واضح کیا کہ پارٹی اور بلاول بھٹو کی عزت سب سے مقدم ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اتحاد پیپلز پارٹی نہیں بلکہ ن لیگ کی ضرورت ہے اجلاس میں بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے اراکین کو وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات پر بریفنگ دی۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ گفتگو میں پارٹی کے تحفظات پیش کیے گئے ذرائع کے مطابق سی ای سی نے وزیراعظم کے سامنے بلاول بھٹو کے واضح مؤقف کو سراہا۔
کئی اراکین نے حکومت کے ساتھ اتحاد سے علیحدگی کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا جاری رہنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے سی ای سی کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور تحفظات دور کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق زرداری نے سی ای سی سے درخواست کی کہ حکومت کو یہ ایک مہینہ دیا جائے اگر مقررہ مدت میں مطالبات پورے نہ ہوئے تو آئندہ اجلاس میں پارٹی بڑے فیصلےکرے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *