ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حالیہ بڑے میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور اس کے گردونواح سے تباہی کے ایسے مناظر سامنے آئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ مہم جوئی اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا براہِ راست جواب ہیں، اس ضمن میں کیا جا رہا ہے کہ ایران کے جدید ‘ہائپر سونک’ میزائلوں نے اسرائیل کے مشہور ‘آئرن ڈوم’ اور ‘ایرو’ ڈیفنس سسٹمز کو توڑکر اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
تل ابیب کے وسطی علاقوں اور فوجی تنصیبات کے قریب بڑے دھماکے سنے گئے، جس سے متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑ گئے۔ حملوں کے دوران پورے شہر میں سائرن بجتے رہے اور لاکھوں شہریوں نے زیرِ زمین پناہ گاہوں بنکرز میں پناہ لی۔ تازہ مناظر میں شہر کے کئی حصوں سے آگ کے بلند شعلے اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
بشمول وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، نے ان حملوں کو محض ایک “جھلک” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مزید جارحیت کی گئی تو اگلا قدم اس سے بھی زیادہ ہولناک ہوگا۔ اسرائیلی فوج (IDF) نے نقصانات کی تصدیق تو کی ہے لیکن دعویٰ کیا ہے کہ بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم، زمین پر موجود شواہد اس دعوے کے برعکس ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا ہے، کیونکہ ان حملوں نے واشنگٹن کے ان دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب سینئر تجزیہ کاروں کا موجودہ صورتحا ل کے حوالے سے کہنا ہے کہ “تل ابیب کی یہ تباہی ثابت کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف ایک وسیع علاقائی جنگ کی طرف جاتا ہے۔”
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کےسپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد

