آئی ایم ایف کی اجازت، درآمدی کوئلہ سستا ہو گیا

آئی ایم ایف کی اجازت، درآمدی کوئلہ سستا ہو گیا

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رضامندی سے مالی سال 27-2026 کے نئے بجٹ میں صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے ایک بڑے ٹیکس ریلیف کی تیاری کر لی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں توانائی اور پیداواری بحران کے پیشِ نظر کوئلے کی درآمد پر عائد کم از کم ویلیو ایڈیشن سیلز ٹیکس کو موجودہ 3 فیصد سے نمایاں طور پر کم کر کے 1 فیصد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔ اس اسٹرٹیجک فیصلے سے ملکی صنعتی سرگرمیوں کو گراں قدر ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویلیو ایڈیشن ٹیکس میں اس بڑی کٹوتی کے بعد سیمنٹ، نجی بجلی گھروں، ٹیکسٹائل اور دیگر بھاری صنعتوں کے لیے درآمدی کوئلہ سستا ہونے کی قوی توقع پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں گھی ،کراکری، شیمپو،جوتے ،مٹھایاں،مصالحے اور36 گھریلو اشیاء کون سی مہنگی ہوئیں،تفصیلات آگئیں

اس اقدام سے نہ صرف کارخانوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی بلکہ مجموعی کاروباری لاگت میں بھی واضح کمی آئے گی، جس سے شدید مالی دباؤ کا شکار صنعتوں کے ورکنگ کیپیٹل (روزمرہ کے اخراجات) پر بوجھ کم ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت ملکی پیداواری شعبے کو فروغ دینے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے تحت برآمد کنندگان پر عائد 1 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس کو بھی مکمل طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

تیل و گیس کمپنیوں کو بڑی راحت، حکومت کا 70 ارب کا ہدف ناکام

دوسری جانب وفاقی حکومت کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب آئی ایم ایف نے ملکی تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کے ونڈ فال منافع (غیر متوقع اضافی منافع) پر 70 ارب روپے کی بھاری لیوی عائد کرنے کی حکومتی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔

آئی ایم ایف کے اس فیصلے کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 99-ڈی کے تحت پٹرولیم اور گیس کے شعبے پر ونڈ فال لیوی عائد کر کے اضافی ریونیو جمع کرنے کی وفاقی حکومت کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جس سے پٹرولیم کمپنیوں کو ایک بڑی قانونی اور مالیاتی راحت ملی ہے۔

پاکستان کی مقامی صنعتیں، بالخصوص سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹر، پچھلے 2 سالوں سے بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف کے باعث شدید بحران کا شکار ہیں۔ متبادل کے طور پر، یہ صنعتیں اپنی پیداواری توانائی کے لیے درآمدی کوئلے (جو زیادہ تر جنوبی افریقہ اور افغانستان سے آتا ہے) پر انحصار کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: کیا تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ ملےگی؟ اہم خبر سامنے آگئی

 تاہم روپے کی قدر میں کمی اور امپورٹ اسٹیج پر عائد بھاری ویلیو ایڈیشن ٹیکسز کی وجہ سے کوئلے کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی تھیں، جس نے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا دیا تھا۔

امپورٹ اسٹیج پر 3 فیصد ٹیکس صنعتوں کا نقد سرمایہ بلاک کر دیتا تھا، جس کے ریفنڈز حاصل کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔

کوئلے پر ٹیکس کٹوتی،  آئی ایم ایف کا صنعتی پیکیج

عام طور پر آئی ایم ایف ٹیکسوں میں کمی کے سخت خلاف ہوتا ہے، لیکن کوئلے پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس 3 سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی اجازت دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی فنڈ پاکستان میں اسٹگفلیشن (معاشی جمود اور مہنگائی) کے خطرے سے واقف ہے۔

 سیمنٹ اور تعمیراتی صنعت کا پہیہ چلنے سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ کم ہونے سے کمپنیاں بینکوں سے مزید مہنگا قرضہ لینے سے بچیں گی، جو کہ مانیٹری پالیسی کے اثرات کو بہتر بنائے گا۔

Related Articles