وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے مالی سال بجٹ 27-2026 کے نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی تیاری کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق محدود مالیاتی وسائل کے باوجود نئے بجٹ میں کچھ مخصوص تنخواہ دار افراد کے لیے ہدف شدہ ٹیکس ریلیف متعارف کرایا جا رہا ہے، تاہم اس ریلیف کا فائدہ متوسط اور کم آمدنی والے اس اکثریتی طبقے کو نہیں پہنچے گا جو تنخواہ دار طبقے کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ تنخواہ دار افراد جو ماہانہ 2 لاکھ 30 ہزار سے 3 لاکھ 41 ہزار روپے کما رہے ہیں، ان کے لیے ٹیکس میں واضح کمی کی تجویز ہے۔ خاص طور پر 2 لاکھ 30 ہزار سے 3 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں کو بڑی کٹوتی سے نجات مل سکتی ہے۔
اسی طرح 2 لاکھ 66 ہزار سے 3 لاکھ 41 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے بھی ٹیکس نمایاں طور پر کم کیا جائے گا، جن پر اس وقت 28,833 روپے فکسڈ ٹیکس کے علاوہ 2 لاکھ 66 ہزار سے زیادہ رقم پر 30 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔ حکومت سب سے زیادہ تنخواہ والے سلیب پر ٹیکس کی شرح کو بھی موجودہ 35 فیصد سے کم کر کے تقریباً 30 فیصد پر لانے پر غور کر رہی ہے۔
کم آمدنی والے ورکرز کے لیے کوئی ریلیف نہیں، سالانہ چھوٹ برقرار
میڈیا رپورٹ کے مطابق دوسری جانب ماہانہ 1 لاکھ سے 1 لاکھ 83 ہزار روپے کمانے والے تنخواہ دار، جو ملکی افرادی قوت کا بڑا حصہ ہیں، کسی بھی تبدیلی سے مستفید نہیں ہوں گے۔
اس گروپ کے لیے موجودہ ٹیکس کی شرح 500 روپے فکسڈ اور 1 لاکھ سے زیادہ آمدنی پر 11 فیصد پر ہی برقرار رہے گی۔ اس کے علاوہ، سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس چھوٹ کی حد برقرار رہے گی، جبکہ سالانہ 10 لاکھ (ایک ملین) روپے تک کمانے والے دستاویزی مقاصد کے لیے صرف 1 فیصد ٹیکس ادا کرتے رہیں گے۔
آئی ایم ایف کا دباؤ، 700 ارب کے نئے اقدامات اور ایف بی آر کا ریکارڈ ہدف
حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے سخت وعدوں کو پورا کرنے کے لیے نئے بجٹ میں 660 ارب سے 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات پیش کرنے والی ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو 15.3 ٹریلین روپے (15,300 ارب روپے) کی ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.32 ٹریلین روپے یا 17.84 فیصد زیادہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے تحت 260 ارب روپے نئے ٹیکس اقدامات سے اور 400 ارب روپے ٹیکس قوانین کے سخت نفاذ (انفورسمنٹ) سے حاصل کیے جائیں گے۔
بجٹ حکام کا اعتراف ہے کہ 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ اور 8.2 فیصد مہنگائی کے تخمینے پر مبنی یہ ہدف انتہائی بلند اور حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن چونکہ ملک آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، اس لیے حکومت کے پاس اس ہدف سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
آٹو سیکٹر کو ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ مؤخر، ٹیرف اصلاحات
تجارت کے شعبے میں حکومت نے 3,149 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی کم کرنے اور 1,900 سے زیادہ ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو 20 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم مقامی کار ساز صنعت کاروں (آٹو مینوفیکچررز) کے شدید دباؤ کے باعث گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کرنے کا بڑا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ٹیرف پالیسی بورڈ نے گاڑیوں پر زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی 150 فیصد سے کم کر کے 75 فیصد کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے مقامی آٹو سیکٹر کو تحفظ دینے کی نیت سے اس تجویز کے جائزے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس سے پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں اسے آئی ایم ایف کے نئے اور طویل مدتی بیل آؤٹ پروگرام کی سخت شرائط پر عمل کرنا پڑ رہا ہے۔
آئی ایم ایف کا سب سے بڑا اصرار ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے پر ہے۔ گزشتہ مالی سالوں میں ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ پہلے سے دستاویزی تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا تھا، جس کی وجہ سے سفید پوش طبقے میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی۔
موجودہ بجٹ کی تیاری ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں صارف اعتماد انتہائی کمزور ہے اور بڑی صنعتیں (ایل ایس ایم) سکڑاؤ کا شکار ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا وفاقی بجٹ پہلے ہی انتہائی کم رکھا گیا ہے، جس میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ پنجاب و سندھ کے صوبائی پروگراموں سے بھی چھوٹا ہے۔
ٹیکس ریلیف کا متضاد فارمولا
حکومت کی جانب سے 2 لاکھ 30 ہزار سے ساڑھے 3 لاکھ روپے کمانے والوں کو ٹیکس ریلیف دینا اور زیادہ سے زیادہ شرح کو 35 سے کم کر کے 30 فیصد پر لانا کارپوریٹ سیکٹر کے مڈل اور اپر مڈل مینجمنٹ کے لیے ایک بڑی لہرِ مژدہ ہے۔
لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ 1 لاکھ سے پونے 2 لاکھ کمانے والا وہ ملازم، جو مہنگائی کی چکی میں سب سے زیادہ پس رہا ہے، اسے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ یہ پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت نے صرف اس طبقے کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے جہاں سے برین ڈرین (پیشہ ور افراد کا ملک چھوڑنا) کا خطرہ زیادہ تھا۔