امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر سے آبنائے ہرمز میں ہونے والی حالیہ پیشرفت پر بات چیت کی ہے۔
محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ٹامی پگوٹ کے مطابق دونوں عہدیداروں نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں سکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
مارکو روبیو نے بھارتی وزیر خارجہ پر واضح کیا کہ تمام تجارتی جہازوں کیلیے امریکی افواج کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر فوری عمل کرنا لازمی ہے کیونکہ امریکی افواج خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کیلیے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات کی خلاف ورزی جس میں ایرانی تیل کی غیر قانونی نقل و حمل بھی شامل ہے کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب بھارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے ایک آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی کارروائی کے بعد سینئر امریکی سفارت کار کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوا ہے جبکہ صورتحال پر مزید پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا موجودہ بحران اب خطرناک اور غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ چار مہینے سے جاری یہ بحران باہمی ناکہ بندیوں پر مشتمل ہے۔
ایران نے اس آبی گزر گاہ سے محفوظ راہداری کے لیے جہازوں پر دو ملین ڈالر تک فیس عائد کر دی ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو روک کر بحری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔