امریکی انتظامیہ کے مطابق آئندہ مالی سال میں صرف 7 ہزار 500 تارکین وطن کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ فیصلہ 1980 کے ریفیوجی ایکٹ کے بعد کسی بھی حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی سب سے کم حد قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حکومت امریکا کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے اور ملک میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں واضح کمی کی جا رہی ہے تاکہ قومی سلامتی پر کوئی اثر نہ پڑے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکا میں داخل ہونے والے افراد ہماری سلامتی اور معاشی نظام کے لیے خطرہ نہ بنیں ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی افریقہ کے سفید فام شہریوں کو نسل کشی کے خطرات لاحق ہیں اس لیے انہیں پناہ گزینوں میں خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
فی الحال امریکا میں پناہ گزینوں کی سالانہ حد ایک لاکھ پچیس ہزار ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اسے کم کر کے 7 ہزار 500 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے قانون کے تحت پناہ کے خواہشمند افراد کو سخت سکیورٹی جانچ سے گزرنا ہوگا اور ان کی منظوری کے لیے امریکی وزارتِ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی باقاعدہ اجازت لازمی ہوگی۔
امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے جون میں ایک نیا امیگریشن آرڈر جاری کیا تھا جس کے بعد یہ پالیسی نافذ کی گئی ہے دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی امیگریشن پالیسی کو مزید محدود کرے گا اور مخصوص قومیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دے گا اس پالیسی سے امریکا کے عالمی تشخص پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔