پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ریپ اور جدید رِدم کے ابتدائی آثار پر ایک نئی بحث نے زور پکڑ لیا ہے، جہاں صوفی کلام “پانی دا بلبلہ” کو اس انداز کی ابتدائی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ صوفیانہ کلام عظیم صوفی شاعر سلطان باہو سے منسوب ہے، جس میں انسانی زندگی کی ناپائیداری کو ایک نازک بلبلے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ فلسفیانہ تصور صدیوں سے سامعین کے دلوں کو چھو رہا ہے اور آج بھی اپنی روحانی گہرائی کے باعث مقبول ہے۔
یعقوب عاطف، جنہیں بلبلہ صاحب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کی آواز میں پیش کیا گیا یہ کلام ایک بار پھر سوشل میڈیا اور موسیقی کے حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ان کی پرفارمنس میں روایتی قوالی انداز کے ساتھ ایک منفرد ردم اور جدید موسیقی کا امتزاج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
میوزک مبصرین اور کچھ سامعین کے مطابق اس پیشکش میں وہ ابتدائی عناصر موجود ہیں جنہیں پاکستان میں ریپ اور جدید اسٹائل میوزک کی پہلی جھلک کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل طور پر ریپ گانا نہیں، لیکن اس میں موجود ردم، فلو اور اظہار کا انداز اسے ایک تجرباتی میوزیکل قدم کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین اسے پاکستانی میوزک میں صوفی روایت اور جدید اسٹائل کے امتزاج کی ایک اہم کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے صرف ایک روحانی کلام کی جدید پیشکش سمجھتے ہیں۔
بہرحال یہ پیشکش اس بحث کو ضرور جنم دے رہی ہے کہ پاکستانی موسیقی میں جدید ردم اور ریپ اسٹائل کی ابتدائی جھلکیں کب اور کیسے سامنے آئیں، اور ’پانی دا بلبلہ‘ کو اس سلسلے میں ایک علامتی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔