ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تباہ شدہ جوہری تنصیبات کو ازسرِنو تعمیر کرے گا اور انہیں پہلے سے زیادہ مضبوط اور محفوظ بنایا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایٹمی توانائی ادارے کے ایک تفصیلی دورے کے دوران کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور ملک کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا نہ ماضی میں کوئی ارادہ تھا اور نہ مستقبل میں ایسا کوئی منصوبہ ہے۔
ایرانی صدر کو دورے کے دوران ادارے کے اعلیٰ حکام نے تنصیبات کی موجودہ صورتحال اور بحالی کے مراحل پر بریفنگ دی صدر پزشکیان نے سائنس دانوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دشمن نے عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے لیکن ایرانی ماہرین اور انجینئرز کے پاس وہ تمام علم، مہارت اور ٹیکنالوجی موجود ہے جس کے بل بوتے پر ایران اپنی جوہری صلاحیت کو دوبارہ مستحکم کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں یا دباؤ سے قوم کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ تہران کو جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی سے متعلق ایک غیر رسمی پیغام موصول ہوا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیغام کس ملک یا تنظیم کی جانب سے آیا ہے ترجمان کے مطابق ایران ہمیشہ سفارت کاری اور بات چیت پر یقین رکھتا ہے مگر اپنے قومی دفاع اور سائنسی ترقی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔