بھارت میں ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’بزدل‘ اور ’غیر مؤثر لیڈر‘ قرار دیا ہے۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ایک بیان میں کہا کہ ’نریندر مودی ایک بزدل انسان ہے جس کے پاس کوئی وژن نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مودی میں ہمت ہے تو وہ عوام کو بتائیں کہ 7 طیاروں کی تباہی کے ٹرمپ کے بیانات اور دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ مودی اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ انہوں نے خود آپریشن سندور کو رکوا دیا۔‘
’مودی امریکی دباؤ میں ہیں‘
راہول گاندھی کے بعد کانگریس کی سینیئر رہنما سوپریا شری نیت نے بھی مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آپریشن کے دوران 7 بھارتی طیارے مار گرائے گئے، اس پر مودی کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت کے مفادات کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔‘
اپوزیشن کا شدید ردِعمل
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ مودی کی بزدلی کی وجہ سے ’پورے بھارت کی عزت داؤ پر لگ چکی ہے۔‘ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوام سے سچ چھپایا اور ناکام آپریشن کو ’عظیم کامیابی‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے اندر بھی اس معاملے پر شدید احتجاج متوقع ہے۔ اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آپریشن سندور کی تفصیلات منظرِ عام پر لائے اور اس بات کی وضاحت کرے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے الزامات کا جواب کیوں نہیں دیا گیا۔
’آپریشن سندور‘ بھارتی فضائیہ کی ایک خفیہ کارروائی بتائی جا رہی ہے جو حالیہ ہفتوں میں ناکام ہوئی اور اس میں مبینہ طور پر بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس آپریشن میں ’بھارت کے سات طیارے مار گرائے گئے‘ تاہم نئی دہلی کی جانب سے اب تک اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، مودی حکومت کی خاموشی نہ صرف اس کے بیانیے کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اپوزیشن کے سوالات کو مزید تقویت دے رہی ہے۔