باجوڑ کے علاقے کوثر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران داعش خراسان سے منسلک دہشتگرد ضیاالدین عرف ابراہیم ادریس ہلاک ہو گیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ضیاالدین کی ہلاکت سے داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں ضیاالدین مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا ضیاالدین پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب اور اے این پی کے مولانا خان زیب کے قتل میں ملوث تھا۔
سیکورٹی ذرائع نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضیاالدین طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان جیل میں قید تھا، مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔
رہائی کے بعد ضیاالدین دوبارہ شدت پسندی میں ملوث ہو گیا اور 2023 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا۔