لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت، اوگرا اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا ہے۔ سماعت جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
درخواست مفاد عامہ کی تنظیم جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بینچ نے درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور اوگرا سمیت دیگر حکام کو قانونی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 43 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ اضافہ صارفین پر مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ عوامی مفاد کے منافی ہے اور اوگرا کی جانب سے لاگت کا جائزہ مناسب انداز میں نہیں لیا گیا۔ بینچ نے اس معاملے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام کو جواب جمع کرانے اور عدالت کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
یہ کیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عدالت میں دائر کئی درخواستوں میں سے ایک ہے اور اس سے قبل بھی عدالت نے اوگرا اور وزارت توانائی کو قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر وضاحت طلب کی تھی۔ سماعت کی مزید تاریخ جلد مقرر کی جائے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام صارفین اور صنعتوں پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے، اور عدالت کے فیصلے سے قیمتوں میں اضافے یا اس کی معطلی کے حوالے سے اہم رہنمائی ملنے کی توقع ہے۔