چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورہ برونائی ، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورہ برونائی ، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے برونائی کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے برونائی دارالسلام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سلطانِ برونائی سے ملاقات کی، ملاقات میں برونائی دارالسلام کے سلطان نے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار کو سراہا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان اور برونائی دارالسلام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، علاوہ ازیں انہوں نے وزیرِ دفاع اور کمانڈر رائل برونائی آرمڈ فورسز سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں : جنرل ساحر شمشاد مرزا کا مالدیپ کا اہم دورہ، دفاعی تعلقات کے فروغ پر اتفاق

انہوں نے موارا نیول بیس پر موجود دارالامان کا دورہ کیا اور ڈیفنس اکیڈمی رائل برونائی آرمڈ فورسز میں شرکا سے خطاب کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان کے علاقائی امن و استحکام میں کردار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اکیڈمی کے کمانڈ اینڈ سٹاف کورس کے طلبہ سے بھی بات چیت کی، جن میں 19 مختلف ممالک کے افسران بھی شامل تھے۔

اس دوران ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے وفود نے عالمی و علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان برونائی کے ساتھ اپنے دفاعی اور عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فوج نہیں لڑتی بلکہ قوم لڑتی ہے، پاکستانی قوم بھرپور طریقے سے لڑی اور اللہ نے عزت دی، جنرل ساحر شمشاد مرزا

اس موقع پر سلطان معظم اور برونائی دارالسلام کی سول و عسکری قیادت نے پاکستانی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، کارناموں اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی ، دورے کے دوران جنرل ساحر شمشاد مرزا کی برونائی آرمڈ فورسز کے ہیڈکوارٹرز آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *