پاکستان نے چمن بارڈر پر فائرنگ سے متعلق افغانستان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فائرنگ کا آغاز افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیا گیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاک افغان سرحد چمن پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی جانب سے بعض عناصر نے بلا اشتعال پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ ردعمل دیا۔ پاکستانی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث صورتحال پر مکمل قابو پالیا گیا اور فائر بندی بدستور برقرار ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے افغانستان کی جانب سے اس واقعے سے متعلق کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فائرنگ کا آغاز افغان جانب سے ہوا تھا، جس کا پاکستانی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔
We strongly reject claims circulated by the Afghan side regarding today’s incident at the Pak-Afghan border at Chaman. Firing was initiated from the Afghan side, to which our security forces responded immediately in a measured and responsible manner.
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) November 6, 2025
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سرحدی امن و استحکام کے لیے مذاکرات کے تسلسل پر پرعزم ہے اور افغان حکام سے باہمی تعاون اور مثبت رویے کی توقع رکھتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دوحہ امن معاہدے کی روح پامال، افغانستان ایک بار پھر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔

