چمن بارڈر پر فائرنگ، پاکستان نے افغانستان کے دعوؤں کو مسترد کردیا

چمن بارڈر پر فائرنگ، پاکستان نے افغانستان  کے دعوؤں کو مسترد کردیا

پاکستان نے چمن بارڈر پر فائرنگ سے متعلق افغانستان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فائرنگ کا آغاز افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیا گیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاک افغان سرحد چمن پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی جانب سے بعض عناصر نے بلا اشتعال پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ ردعمل دیا۔ پاکستانی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث صورتحال پر مکمل قابو پالیا گیا اور فائر بندی بدستور برقرار ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے افغانستان کی جانب سے اس واقعے سے متعلق کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فائرنگ کا آغاز افغان جانب سے ہوا تھا، جس کا پاکستانی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سرحدی امن و استحکام کے لیے مذاکرات کے تسلسل پر پرعزم ہے اور افغان حکام سے باہمی تعاون اور مثبت رویے کی توقع رکھتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: دوحہ امن معاہدے کی روح پامال، افغانستان ایک بار پھر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں، امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔

اس سے قبل پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا، مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تو استنبول ائیرپورٹ سے ترکیے کی درخواست پر مذاکرت کو ایک آخری موقع دینے کے لیے پھر واپس ہوا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *