اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران اس کی پہلی کمیٹی جو تخفیفِ اسلحہ اور عالمی سلامتی سے متعلق امور پر کام کرتی ہے نے پاکستان کی پیش کردہ چار اہم قراردادیں منظور کر لی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جو عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اس کے مستقل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
ان میں سے دو قراردادیں علاقائی تخفیفِ اسلحہ اور علاقائی و ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیں۔
ان قراردادوں کا مقصد مختلف خطوں میں سلامتی، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا ہےباقی دو قراردادیں غیر ایٹمی ممالک کے تحفظ کے لیے ایٹمی طاقت رکھنے والی ریاستوں کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال یا اس کی دھمکی کے خلاف مؤثر عالمی انتظامات کی تشکیل اورعلاقائی و ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں پر قابو پانے کے اقدامات بھاری اکثریت سے منظور ہوئیں جو پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر وسیع حمایت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر تخفیفِ اسلحہ، علاقائی سلامتی، ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے اقدامات جیسے موضوعات پر نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں جیسے کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ اقوامِ متحدہ ڈس آرمامنٹ کمیشن اور پہلی کمیٹی کے پلیٹ فارمز پر اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ عالمی سطح پر پائیدار امن اور سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔