غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی نئی پالیسی کے تحت، تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور فیس بک پر 15 سال سے کم عمر صارفین کے لیے رجسٹریشن اور استعمال پر پابندی ہوگی۔
ڈنمارک کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے والدین کو صرف محدود رسائی دینے کی اجازت ہوگی یعنی وہ مخصوص، محفوظ ایجوکیشنل یا کمیونیکیشن ایپس تک اپنے بچوں کی رسائی کو خود کنٹرول کر سکیں گے۔
وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ہماری نئی نسل کو ورچوئل دنیا کے دباؤ، جھوٹے معیارِ زندگی اور نفسیاتی دباؤ سے بچانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔