افغان طالبان حکومت کی نااہلی، معاشی بدانتظامی اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث افغانستان شدید معاشی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی 2025 کی تازہ رپورٹ نے طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان کی تباہ حال معیشت، بڑھتی غربت اور عوامی بدحالی کو آشکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی 64.9 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے، جبکہ مزید 19.9 فیصد شہری ایسے ہیں جو غربت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس کے برعکس، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک نے گزشتہ برسوں میں غربت میں نمایاں کمی حاصل کی، مگر افغانستان طالبان کے سخت گیر اور ناقص نظامِ حکمرانی کے باعث اس بہتری سے مکمل طور پر محروم رہا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان عوام اپنی بنیادی ضروریات سے 55.5 فیصد حد تک محروم ہیں۔ معیارِ زندگی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں صورتحال نہایت سنگین ہے، جہاں بالترتیب 42.5 فیصد، 33.4 فیصد اور 24.1 فیصد افغان عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
یو این ڈی پی کے مطابق، طالبان حکومت کے سخت گیر اقدامات اور خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں نے معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ ملک میں لاکھوں افراد بجلی، صاف پانی، محفوظ رہائش اور طبی سہولیات سے محروم ہیں، جب کہ دیہی علاقوں میں حالات مزید ابتر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی آمرانہ طرزِ حکمرانی نے نہ صرف افغانستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور امداد کا سلسلہ بھی تقریباً بند ہو چکا ہے۔ نتیجتاً ملک کی معیشت مسلسل سکڑ رہی ہے، بیروزگاری عروج پر ہے اور مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق، طالبان حکومت کی پالیسیوں نے افغانستان کو جبر، افلاس اور معاشی تباہی کی بدترین مثال بنا دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آنے والے برسوں میں افغان آبادی کا بڑا حصہ شدید غذائی قلت اور غربت کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی بندشوں اور بدانتظامی کے باعث افغانستان تیزی سے انسانی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اگر عالمی برادری نے بروقت مداخلت نہ کی تو یہ بحران پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
افغانستان کی موجودہ تباہ حالی، طالبان حکومت کی گمراہ کن حکمرانی اور عوام دشمن پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔