آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان برسبین میں کھیلا جانے والا پانچواں اور آخری ٹی20 میچ بارش کی نذر ہو گیا، جس کے باعث کرکٹ آسٹریلیا کو تقریباً ایک ملین آسٹریلوی ڈالرز، یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ 17 لاکھ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ میچ کرکٹ آسٹریلیا کے لیے نہ صرف مالی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ سیریز کے نتیجے پر بھی اثر انداز ہوا۔ شدید گرج چمک اور موسلادھار بارش کے باعث میچ مکمل نہ ہو سکا اور بھارت کو تین میچوں کی سیریز 1-2 سے کامیابی حاصل ہوئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برسبین کے گابا اسٹیڈیم میں ہونے والے میچ میں صرف 4.5 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا، جس میں بھارت نے بغیر کسی نقصان کے 52 رنز بنائے۔ اسی دوران قریبی علاقوں میں گرج چمک کے باعث میچ ریفری نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر کھلاڑیوں کو گراؤنڈ سے باہر بلا لیا۔ کچھ دیر بعد تیز بارش نے کھیل دوبارہ شروع کرنے کے تمام امکانات ختم کر دیے، جس کے نتیجے میں میچ منسوخ کر دیا گیا۔
قواعد کے مطابق، اگر ٹی20 میچ میں 6 اوورز سے کم کھیل ہو تو ناظرین مکمل ٹکٹ ری فنڈ کے حقدار ہوتے ہیں۔ چنانچہ 31 ہزار 74 شائقین کو ٹکٹوں کی مکمل رقم واپس کی جا رہی ہے، جس کے باعث کرکٹ آسٹریلیا کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
کرکٹ آسٹریلیا کے حکام کے مطابق، یہ ‘ایک مہنگی ترین رات’ ثابت ہوئی، کیونکہ نہ صرف میچ منسوخ ہوا بلکہ ہاؤس فل اسٹیڈیم میں فروخت ہونے والے ٹکٹوں، پارکنگ، فوڈ اسٹالز اور نشریاتی حقوق سے متوقع آمدن بھی ضائع ہو گئی۔
دوسری جانب، آسٹریلوی ٹیم کے لیے یہ نتیجہ مایوس کن رہا کیونکہ برسبین میں اسے سیریز برابر کرنے کا سنہری موقع حاصل تھا۔ تاہم، بارش کے باعث میچ ختم ہونے کے بعد بھارت نے دو ایک سے سیریز جیت لی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق، گابا اسٹیڈیم میں حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع نہیں کہ موسم نے کھیل کو متاثر کیا ہو۔ رواں سال کے آغاز میں بھی برسبین میں شیڈول بگ بیش لیگ کے متعدد میچز بارش کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔
شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر میچ منسوخی پر مایوسی کا اظہار کیا، تاہم زیادہ تر نے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے میچ ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔