محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 7 روز کی توسیع کر دی ہےجس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت 15 نومبر تک صوبے بھر میں احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی برقرار رہے گی ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق، عوامی مقامات پر چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔
صوبے بھر میں اسلحے کی نمائش اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال پر بھی سخت پابندی لگائی گئی ہے صرف اذان اور جمعے کے خطبے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
اس کے علاوہ اشتعال انگیز نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ نوعیت کے مواد کی اشاعت اور تقسیم پر بھی مکمل پابندی ہوگی حکومت پنجاب کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عوامی جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ ہے۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ سیکو رٹی خدشات کے پیش نظر عوامی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں اس لیے کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ شادی کی تقریبات، جنازوں اور تدفین کی کارروائیوں پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا اسی طرح، سرکاری فرائض انجام دینے والے اہلکار اور عدالتی کارروائیاں بھی دائرہ کار سے مستثنیٰ ہیں۔
ترجمان کے مطابق حکومت پنجاب امن عامہ کی بہتری اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور یہ اقدامات کسی بھی ممکنہ شرپسند سرگرمی یا ریاست مخالف کارروائیوں کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔