خیبر پختونخواہ میں مساجد سے متعلق توہین آمیز گفتگو کے بعد سائبر کرائم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر کچھ ایسے بیانات سامنے آئے جنہیں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا اور توہین آمیز قرار دیا گیا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف مساجد کے حوالے سے توہین آمیز مواد اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات پر ایف آئی آر درج کر دی ہے۔
ایف آئی آ رکے مطابق یہ واقعہ 9 نومبر 2025 کو صبح 09:30 بجے رپورٹ کیا گیا ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر جعلی، دھوکہ دہی پر مبنی، اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا مواد پھیلایا۔
اس میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اور غلط مواد کے ذریعے مذہبی اداروں اور ریاست کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے مواد عام لوگوں میں پھیلانے، اشتراک کرنے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
سائبر کرائم حکام نے کہا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات کے لیے سب انسپکٹر وقاص خان کو نامزد کیا گیا ہے اور تحقیقات میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کو اشتعال دلانے والا مواد تیار کرنا، پھیلانا اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنا سنگین جرم ہے اور ریاست کے وقار اور مذہبی جذبات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی ہر قیمت پر روک تھام کی جائے گی۔
ایف آئی آر میں سوشل میڈیا کے مختلف مواد کو بطور ثبوت شامل کیا گیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہےخیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے بیان پر صوبے کے مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے مذہبی رہنماؤں اور وکلا نے وزیراعلیٰ کے بیانات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسے بیانات عوامی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔
سائبر کرائم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی اور اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو سخت سزا دی جائے گی۔ اس واقعے کے بعد صوبے میں سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں۔