طالبان سے دوبارہ بات چیت ہوسکتی ہے، ہم اپنے دوستوں کو انکار نہیں کرسکتے، خواجہ آصف

طالبان سے دوبارہ بات چیت ہوسکتی ہے، ہم اپنے دوستوں کو انکار نہیں کرسکتے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان سے دوبارہ بات چیت کے امکانات موجود ہیں کیونکہ پاکستان اپنے دوستوں کو کبھی انکار نہیں کر سکتا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف نے خاص طور پر ترکی اور قطر کے تعاون اور مدد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان دونوں ممالک کی طرف سے پاکستان کے لیے جو تعاون اور کوشش کی گئی وہ ہمارے لیے بہت اہم اور قابل قدر ہے۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر ہمارے دوست ممالک کسی بھی معاملے میں کوئی موقع دیکھیں اور رابطہ کریں تو پاکستان کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے بھائی اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے، اور اسی وجہ سے ہم ایسے مواقع کو مسترد نہیں کرتے۔

یہ خبربھی پڑھیں :پاک افغان مذاکرات میں مکمل ڈیڈ لاک، اگلے دور کا اب کوئی پروگرام نہیں ،خواجہ آصف
خواجہ آصف نے طالبان کے رویے پر بھی بات کی اور بتایا کہ طالبان زبانی طور پر کئی مسائل کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن تحریری ضمانت دینے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کابل کی حکومت ایک متحد اور یکجا نہیں ہے جس کی وجہ سے مذاکرات کے دوران بہت سی مشکلات اور پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔

وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ جب کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت جو بیان انہوں نے دیا، اس پر انہیں پچھتاوا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں بیان بازی کے اثرات بھی دیکھنے کو ملے۔

آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی وزیر دفاع نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد 28 ویں آئینی ترمیم بھی متوقع ہے اور جو چیز اس میں رہ گئی تھی وہ بھی جلد شامل کر دی جائے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں ،چاہتے ہیں پاک افغان مذاکرات میں چیزیں زبانی کلامی نہیں بلکہ تحریری معاہدہ ہو،خواجہ آصف

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے قطر میں اور بعد میں ترکی میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے لیکن طالبان کی جانب سے تحریری ضمانت فراہم نہ کرنے کی وجہ سے یہ مذاکرات کوئی خاص نتیجہ دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *