آئینی ترمیم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کی گئی ہے،اسحاق ڈار

آئینی ترمیم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کی گئی ہے،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کو تاریخی قرار دیتے ہوئے سینیٹرز کو مبارکباد دی۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز شامل تھی اور اس عدالت کو دیگر عدالتوں سے علیحدہ کرنا  اہم پیش رفت ہے۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ چیف جسٹس سمیت تمام ججز کی سنیارٹی برقرار رہے گی اور آئینی عدالت کی علیحدگی عدالتی نظام میں مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔

یہ خبربھی پڑھیں :ستائیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس کی منظوری پر تمام سینیٹرز، اتحادی جماعتوں اور آزاد اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں دنیا کے کئی ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں اور اس ترمیم کا مقصد پاکستان میں عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد دینی چاہیے وعدے کے مطابق بل پہلے سینیٹ میں پیش کیا گیا اور تمام سینیٹرز کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔

یہ خبربھی پڑھیں :قومی اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم پیش نہ کی جا سکی،اجلاس کل تک ملتوی

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں دونوں ایوانوں کے اراکین شامل تھے تاکہ تمام امور باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے طے کیے جائیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ اٹھارہویں ترمیم میں صوبے کے نام میں تبدیلی کی گئی تھی جو عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبے پر کی گئی اس حوالے سے دوبارہ اے این پی کی درخواست ہے کہ صوبے کا نام صرف پختونخوا ہونا چاہیے جس پر مزید مشاورت کی جائے گی۔

اسی طرح ایم کیو ایم کی بلدیاتی نظام سے متعلق تجاویز پر بھی بات چیت جاری رہے گی نائب وزیراعظم نےمزید کہا کہ یہ سب ایک ٹیم ورک کی کامیابی ہے اور تمام اراکین اور عوام کے لیے خوش آئند تبدیلی ہے۔

editor

Related Articles