ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت: امریکہ کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں

ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت: امریکہ کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں

امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے معاونت کے الزام میں اس سے وابستہ 32 افراد اور اداروں پر پابندیاں لگا دیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں میں شامل یہ افراد اور ادارے ایران، یو اے ای، چین، ترکیے، ہانگ کانگ، بھارت، جرمنی اور یوکرین میں موجود ہیں اور ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام میں مددگار خریداری نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی یہ پابندیاں ایران کے جوہری، بیلسٹک میزائل اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے اور بحیرہ روم میں کمرشل سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہیں، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کو امریکی تاریخ کا بدترین صدر قرار دیدیا

محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو روکنا اور پاسدارانِ انقلاب کو ایسے وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بناتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) کے تحت، جو دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا فوج کو فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ کا حکم

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ تیسرے ممالک میں موجود اداروں پر بھی پابندیاں لگاتا رہے گا تاکہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے سامان حاصل کرنے والے نیٹ ورکس کو روکا جا سکے، کیونکہ یہ سرگرمیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *