اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کم از کم مزید تین ہفتوں تک جاری رہیں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی اور وسطی ایران میں اہداف پر اپنے حملوں کا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان کیا ہے، اس دوران ایرانی ذرائع ابلاغ نے بندر عباس میں پاسدارانِ انقلاب کے میزائل مراکز پر بمباری کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ جنگ جاری رکھنے کیلئے امریکا کے ساتھ مضبوطی سے متحد ہیں، اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران میں آئی آر جی سی اور بسیج ہیڈ کوارٹرز کے خلاف سلسلہ وار حملے کئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے سرکاری انفراسٹرکچر کے خلاف حملے بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ترجمان ایوی ڈیفرین نے امریکی میڈٰیا سے بات کرتے کہا کہ ہمارے سامنے ہزاروں اہداف ہیں، ہم اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو کم از کم یہودی عید ’’ پیس اوور ‘‘ تک یعنی اب سے تقریباً تین ہفتے بعد تک پھیلے ہوئے ہیں، ہمارے پاس اس کے بعد مزید تین ہفتوں کے گہرے منصوبے بھی موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ 28 فروری کو دوبارہ شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے فضائیہ نے ایران پر 400 سے زیادہ حملے کیے ہیں ، ان حملوں میں خاص طور پر ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈیفرین نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کسی سٹاپ واچ یا ٹائم ٹیبل کے مطابق کام نہیں کر رہی بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کے پاس دفاعی میزائلوں کی تعداد تیزی سے کم ہونے لگی ہے، اسرائیل نے امریکا کو بتایا کہ اس کے پاس بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹرز بہت کم رہ گئے ہیں