امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پسِ پردہ رابطوں سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں امریکی میڈیا نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے بحال ہونے کا دعویٰ کیا ہے، وہیں ایران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ایک براہ راست رابطہ چینل حالیہ دنوں میں دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف کو متعدد پیغامات بھیجے جن میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا۔
اسی دوران امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے بھی ایرانی حکام سے رابطہ کیا اور جوابی پیغامات ارسال کیے۔ بعض امریکی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی ذرائع کے مطابق عراقچی ان پیغامات کو نظرانداز کر رہے ہیں، جس سے سفارتی عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ان کا آخری رابطہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہوا تھا اور اس کے بعد کسی قسم کی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کسی بھی غیر مصدقہ یا غیر رسمی رابطے کو سنجیدہ سفارتی پیش رفت قرار دینا درست نہیں، اور ایران کسی بھی مذاکرات کے لیے واضح اور باضابطہ طریقہ کار کو ترجیح دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان رپورٹس پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے خفیہ یا پسِ پردہ سفارتی رابطے عالمی سیاست میں غیر معمولی نہیں ہوتے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کھلے عام مذاکرات ممکن نہ ہوں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ماضی میں بھی کئی مواقع پر ایسے غیر اعلانیہ رابطے ہوتے رہے ہیں، جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر واقعی کسی سطح پر رابطے بحال ہوئے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اگر سفارتی رابطے مؤثر نہ ہوئے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔