ملک بھر میں عوامی سطح پر افغان بارڈر سیکیورٹی کے حوالے سے واضح اور سخت مؤقف سامنے آ رہا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد پاکستان کی جانب سے سرحدی دراندازی اور دہشتگردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کو قومی مفاد قرار دے رہی ہے۔
مختلف سرویز، عوامی تبصروں اور سوشل میڈیا پر جاری بحث میں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاک، افغان بارڈر کو مستقل طور پر مضبوط کیا جائے اور اسے بین الاقوامی سرحدوں کے معیار کے مطابق سخت نگرانی کے تحت چلایا جائے۔
عوامی رائے کے مطابق افغان بارڈر برسوں سے غیر قانونی آمدورفت، اسمگلنگ، دراندازی اور دہشتگرد عناصر کے داخلے کے لیے بنیادی راستہ رہا ہے۔ متعدد شہریوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بارڈر کو مکمل طور پر سیل کرنا ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بارڈر اس لیے بند کیا تاکہ دہشتگرد گروہوں، جنہیں وہ ‘فتنہ الخوارج’ قرار دیتے ہیں، کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ شہریوں نے حالیہ کچہری حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ دہشتگردی کے متعدد نیٹ ورک افغانستان میں اپنی جڑیں رکھتے ہیں۔
بعض عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ افغان عناصر بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے بارڈر پر نرمی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ عوامی رائے کے مطابق جب سیکیورٹی اور تجارت میں تضاد پیدا ہو جائے تو ریاست کے پاس بارڈر بند کرنے کے سوا کوئی اختیار نہیں بچتا۔
متعدد شہریوں نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان طالبان حکومت کی جانب سے سخت کارروائی، تعاون اور دہشتگرد عناصر کی روک تھام یقینی نہ بنائی گئی تو پاکستان کو اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت پاک۔افغان بارڈر مکمل طور پر بند رکھنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر یہ سخت مؤقف ملکی سلامتی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے باعث مضبوط ہوا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے مستقبل میں بارڈر پالیسی کے حوالے سے کسی بھی فیصلے میں عوامی جذبات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔