سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ’اقبال سانگھیرا‘ کو5 دن قبل پولیس حراست سے فرار ہونے کے بعد ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خصوصی یونٹ نے خفیہ معلومات اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا اور اسے ایک کارروائی کے دوران اقبال سانگھیرا حراست میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سانگھیرا کو ’کوٹ لکھپت جیل لاہور‘ منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سانگھیرا ’13 نومبر‘ کو اس وقت پولیس کی نگرانی سے نکل گیا تھا جب اسے راولپنڈی سے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا۔ ملزم موٹر وے پر ’چکری انٹرچینج‘ کے آرام گاہ پر رکھے گئے مختصر وقفے کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سابق افسر کے خلاف راولپنڈی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں ایف آئی آر نمبر ’16/2022‘ کے تحت مقدمہ درج ہے، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات ’471، 468 اور 420‘ سمیت ’انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947‘ کی دفعہ ’5(2)‘ شامل ہے۔ ان دفعات کے تحت جعل سازی، دھوکہ دہی اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات پر 7 سال تک قید اور جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سانگھیرا کے خلاف لاہور میں بھی ایک الگ مقدمہ زیرِ تفتیش ہے جس کی ایف آئی آر ’46/2025‘ گزشتہ برس 31 جولائی کو درج کی گئی تھی۔ اس کیس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات ’161‘ اور ’162‘ شامل ہیں جو سرکاری حیثیت میں رشوت لینے اور دوسرے سرکاری افسر پر اثر انداز ہونے کے لیے ناجائز رقم طلب کرنے کے الزامات سے متعلق ہیں۔
لاہور میں کی گئی تحقیقات کے دوران حکام نے ایک ’ٹویوٹا لینڈ کروزر (ARE-054)‘، ’رولیکس گھڑی‘، بھاری مقدار میں مبینہ رشوت کی رقم، ’کمرشل پلاٹس نمبر 39 اور 40‘ کے اصل کاغذات اور مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی نقدی برآمد کی۔ حکام کے مطابق ’68 لاکھ 25 ہزار روپے‘ ڈی ایچ اے میں گھر خریدنے کے لیے رکھے گئے تھے جبکہ ’4 کروڑ 91 لاکھ 50 ہزار روپے‘ کو مبینہ کرپشن کی رقوم قرار دیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق مزید شواہد اور مالی ریکارڈ کی جانچ جاری ہے اور امکان ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو۔ بعض سرکاری اہلکاروں کے نام بھی سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ اس بار ملزم کی حراست کے لیے ’سخت سیکیورٹی اقدامات‘ کیے جا رہے ہیں اور سانگھیرا کے کسی مزید فرار کے امکان کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔