کینسر کے مریض دربدر ،ادویات ناپید، سرکاری علاج بدترین تعطل سے دوچار

کینسر کے مریض دربدر ،ادویات ناپید، سرکاری علاج بدترین تعطل سے دوچار

کینسر کے مریض دربدر ہوگئے،اس وقت کینسر کا سرکاری علاج بدترین تعطل سے دوچار ہے،بلڈ کینسر کے مریضوں کیلئے 2 ادویات جکاوی اور افینوٹار سرکاری ہسپتالوں میں ناپید ہو گئیں۔کینسر کی دوا نیلاٹالینب خریدنے کے باوجود تاحال ہسپتالوں کو سپلائی نہ ہوسکی ۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی سنگین غفلت سے کینسر کے مریض رل گئے ۔

تفصیلات کے مطابق دوائیوں کی عدم دستیابی کے باعث سی ایم ایل پراجیکٹ کے تحت رجسٹرڈ کینسر کے 6 ہزار مریض پریشان ہوگئے ہیں،کینسر کے مریض مہنگی ادویات خود خریدنے سے قاصر ہیں۔ کینسر کی ادویات نہ ملنے پر ہزاروں مریضوں کا علاج رک گیا ہے۔

شہباز شریف دور میں بلڈ کینسر مائیولائیڈ لیوکیمیا کا سرکاری علاج شروع کیا گیا ۔شہباز دور سے سی ایم ایل پروجیکٹ کے تحت کینسر کے مریضوں کا مفت علاج میسر تھا ۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی سنگین غفلت سے کینسر کے مریض رل گئے ۔

مزید پڑھیں: فارما کمپنیز کی من مانی، ملک بھر میں دواؤں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

کینسر کی دوائیں (یا کینسر کا علاج کرنے والی دوائیں) بہت سارے ضمنی اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔ کینسر میں مبتلا افراد کو کینسر کی علامات کے علاج کے لیے مخصوص دوائیں لینا پڑتی ہیں لیکن کینسر کی دوائیں جسم کے صحت مند بافتوں پر بھی مضر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کینسر کی دوائیں بھی فوائد پیدا کرتی ہیں اور علامات سے نجات دیتی ہیں۔

کینسر کی مختلف اقسام کے علاج کے لیے کینسر کی کئی دوائیں استعمال ہوتی ہیں۔ کینسر کی یہ دوائیں عمل کے انداز میں مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن، کینسر کی دوائیوں کا بنیادی کام کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنا ہے۔

کینسر کی دوائیں مختلف راستوں سے جسم میں دی جا سکتی ہیں۔ کینسر کی کچھ دوائیں زبانی طور پر دی جاتی ہیں، باقی نس کے ذریعے دی جاتی ہیں، اور کچھ مریضوں کو کینسر کی دوائیں شاٹس یا سکن کریم کی شکل میں ملتی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *