کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے خریدار طبقے، خصوصاً زیورات خریدنے والوں کو قدرے ریلیف فراہم کیا ہے۔
صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق جمعرات کے روز فی تولہ سونا 5 ہزار روپے سستا ہوکر 4 لاکھ 26 ہزار 562 روپے کا ہو گیا ہے، جو گزشتہ کئی ہفتوں کی مسلسل مہنگائی کے بعد ایک اہم کمی سمجھی جا رہی ہے، اسی طرح 10 گرام سونا بھی 4 ہزار 286 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 65 ہزار 708 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں کمی مقامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر میں معمولی بہتری اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی طلب میں عارضی سست روی کے باعث سامنے آئی ہے۔
تاہم مجموعی طور پر سونا اب بھی مہنگا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل تناؤ، کسادبازاری کے خدشات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی ریکارڈ خریداری مستقل طور پر عالمی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے امریکی شرح سود میں متوقع کمی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے ، سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گولڈ مارکیٹ عالمی سطح پر مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی کمزوری اور عالمی بے یقینی کے ماحول میں سونا ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ادھر عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلی کی تازہ رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنے والے سالوں میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر عالمی معیشت میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا، یا شرح سود میں واضح کمی آئی، تو سونے کی عالمی قیمتیں تاریخی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج کی کمی خریداروں کے لیے خوشخبری ہے، تاہم مستقبل قریب میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا امکان اب بھی موجود ہے، اس لیے مارکیٹ پر نظر رکھنا ضروری ہے۔