آپریشن غضب للحق کے ثمرات، دہشتگردی میں 65 فیصد کمی آگئی

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، دہشتگردی میں 65 فیصد کمی آگئی

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ کے آغاز کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے سیکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ’26’ اور ’27’ فروری کی درمیانی شب شروع کیے گئے اس آپریشن کے بعد صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں ’65’ فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن سے قبل رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے ‘240’ واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد کم ہو کر ’80’ رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں::پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی ہیبت ، افغان طالبان اہلکار بھاگنے پر مجبور

دستاویز کے مطابق آپریشن سے پہلے رواں سال کے نویں ہفتے دہشتگردی کے سب سے زیادہ ’48’ واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تاہم آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں یہ تعداد کم ہو کر صرف ’12’ رہ گئی۔ اسی طرح دسویں ہفتے میں ’42’ اور گیارہویں ہفتے میں ’29’ واقعات رپورٹ ہوئے، جو سیکیورٹی اقدامات کے بعد مسلسل کم ہوتے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صوبے میں مجموعی طور پر دہشتگردی کے ‘323’ واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ مربوط حکمت عملی کے ذریعے دہشتگردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کے باعث نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر صورت ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ یقینی بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپریشن غضب للحق’ کے دوران اسلام آباد اور بنوں سمیت مختلف حملوں میں ملوث ماسٹر مائنڈز کو ہلاک کیا گیا، جبکہ کئی خطرناک دہشتگرد بھی مارے گئے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان عبوری حکومت کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:پاک فضائیہ کا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کاری ضرب، شاہینوں نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے

دوسری جانب چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے بتایا کہ اس آپریشن کے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی اور سیکیورٹی فورسز کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں کمی پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط اور مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مشترکہ کوششوں سے امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ اس آپریشن نے نہ صرف دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کیا بلکہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیوں سے دہشتگردی کی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسی تسلسل کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں تو آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

Related Articles