ملک میں درآمدی آر ایل این جی (ریگیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کی قیمت عام گیس کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہونے کے باوجود اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک تین لاکھ سے زائد صارفین نے آر ایل این جی کنکشن حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صارفین بہتر گیس پریشر اور تسلسلِ فراہمی کے باعث اس نئی سہولت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کو اب تک 3 لاکھ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 16 ہزار کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔
کمپنی کے مطابق آر ایل این جی کی فراہمی کے سالانہ ہدف میں یہ شامل ہے کہ ارجنٹ فیس جمع کروانے والے صارفین کو 50 فیصد کنکشن ترجیحی بنیادوں پر دیے جائیں گے۔
دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کو اب تک 12 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جبکہ کمپنی نے جون تک مجموعی طور پر 3 لاکھ کنکشن فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ارجنٹ فیس دینے والے صارفین کو تین ماہ کے اندر کنکشن فراہم کیا جائے گا۔
کنکشن قیمتوں کا تعین گھر کے سائز کے مطابق کیا گیا ہے۔ 10 مرلے سے بڑے گھروں کے لیے ارجنٹ کنکشن کی قیمت 48 ہزار روپے مقرر ہے، جس میں 25 ہزار روپے ارجنٹ فیس، 20 ہزار سیکیورٹی فیس اور 3 ہزار روپے سروس چارجز شامل ہیں۔ 10 مرلے کے گھروں کے لیے کنکشن 46 ہزار 500 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ 10 مرلے تک کے گھروں کے لیے ارجنٹ فیس 25 ہزار روپے، سیکیورٹی فیس 20 ہزار روپے اور 1,500 روپے سروس چارجز ہیں۔
نارمل کنکشن کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں۔ 10 مرلے سے بڑے گھر کے لیے معیار ی کنکشن 23 ہزار 500 روپے میں دستیاب ہے، جو عام گیس کنکشن کے مقابلے میں تقریباً 1,500 روپے زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کی بڑھتی ہوئی طلب اس بات کی علامت ہے کہ صارفین بہتر گیس فراہمی کے لیے اضافی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ حکومت اس نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔