دبئی ایئر شو میں بھارتی ساختہ جنگی طیارہ تیجس نقائص کے باعث گر کر تباہ ہوا، جس نے بھارت کے دفاعی نظام میں کرپشن، تکنیکی کمزوری اور بدانتظامی کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ بھارتی دفاعی حلقوں میں اس واقعے کے بعد شدید تنقید کی لہر دوڑ چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دفاعی سازوسامان کی خریداری میں کرپشن اور نقائص نے تیجس کی ’آتما ہتیہ‘ کر ڈالی۔ مقامی طور پر تیار کیا گیا یہ طیارہ وہ تکنیکی معیار برقرار نہ رکھ سکا، جس کا بھارتی حکومت دعویٰ کرتی آئی ہے۔
بھارتی دفاعی نااہلی کا پول اُس وقت مزید کھلا جب یہ بات سامنے آئی کہ تیجس کی تباہی بھارت کی دفاعی کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے نے بھارتی فوجی صنعتی صلاحیتوں پر دنیا بھر کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ کچھ عرصہ قبل ہی دفاعی معاہدوں میں بدعنوانی اور نااہلی کا پردہ چاک کر چکے ہیں۔ انہوں نے کھلے عام اعتراف کیا تھا کہ “ٹائم لائن کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی بھی دفاعی پروجیکٹ وقت پر مکمل نہیں ہوتا۔”
اے پی سنگھ کے مطابق “کئی سسٹمز کبھی آئیں گے ہی نہیں، پھر بھی ان کے لیے معاہدے کیے جاتے ہیں۔” ان کے انکشافات کے بعد دبئی ایئر شو میں تیجس کی تباہی نے اُن کے بیانات کی تصدیق کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص طیارہ ایئر شو میں بھیجنا مودی سرکار کی ہٹ دھرمی، جھوٹے گھمنڈ اور خیالی دنیا میں رہنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ بھارتی حکومت کے “چھپن انچ کی چھاتی” کے دعوے اس حادثے کے بعد زمین بوس ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر بھارت کے دفاعی معیار پر سوالات بڑھ گئے ہیں۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے اس تناظر میں یہ بھی کہا تھا کہ آپریشن سندور بھارت کی دفاعی قیادت کے لیے آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ دبئی ایئر شو کے واقعے نے ان خدشات کو عملی شکل دے دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی دفاعی نظام اندرونی طور پر شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔