نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سنایا، جنہوں نے ریمارکس دیے کہ ضمانت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منظور کی جا رہی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تھانہ مغلپورہ میں درج مقدمہ نمبر 1570/23، جس میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کا الزام شامل ہے، میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور کی گئی ہے۔ عدالت نے انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ جج منظر علی گل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اسی نوعیت کے کیس میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کی تھی، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا جا رہا ہے۔
اسی مقدمے میں عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت بھی اسی بنیاد پر پہلے منظور کی جا چکی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یکساں نوعیت کے مقدمات میں یکساں قانونی اصول کو اپنایا جاتا ہے، اسی لیے فیصلے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ضمانت منظور کی گئی ہے۔ تاہم، ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف زیرِ سماعت دیگر تین مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب، یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیل سے ہی مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عسکری ٹاور حملہ کیس میں بھی ضمانت کی درخواست دے رکھی ہے، جب کہ جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے سے متعلق مقدمات میں بھی انہوں نے ضمانت کی درخواستیں جمع کرائی ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نو مئی کے دیگر چار مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن کے خلاف وہ اپیلیں بھی دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے تازہ فیصلے سے باقی مقدمات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی قانونی عمل کا انحصار آئندہ پیشیوں اور عدالتی کارروائی پر ہوگا۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو آئندہ سماعت پر دلائل کی تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔